ਪੂਜਾ

ਪੂਜਾ

اپنے زخموں کے نظارے دیکھتا ہوں!

دن کے وقت بھی میں تارے دیکھتا ہوں!!

کیا کروں میں عرش کے مظلوم کا؟

فرش 'پر دردوں کے مارے دیکھتا ہوں!

کتنی کوٹھیاں ہیں ان کی زد میں؟

شہر کے اونچے مینار دیکھتا ہوں!

کون تقدیروں کو روئے بیٹھ کر ؟

کون زنجیریں اتارے؟ دیکھتا ہوں!

حق کی خاطر اٹھی آواز دے-

بڑھ کر پتھر کون مارے؟ دیکھتا ہوں!

قہر کے مارے ہم ہیں 'اکبرا'،

کون اب زلفیں سنوارے؟ دیکھتا ہوں!

' WHERE Id = '3F4142C6-885B-4954-A422-287582775CA7

ਸ੍ਰੋਤ

ਕਿਤਾਬ ਦਾ ਨਾਂ: ਨੰਦਲਾਲ ਨੂਰਪੁਰੀ ਕਾਵਿ ਸੰਗ੍ਰਹਿ
ਸੰਪਾਦਕ: ਪ੍ਰੋਫ਼ੈਸਰ ਮੋਹਨ ਸਿੰਘ
ਛਾਪਣਹਾਰ: ਪਬਲੀਕੇਸ਼ਨ ਬਿਊਰੋ, ਪੰਜਾਬੀ ਯੂਨੀਵਰਸਿਟੀ ਪਟਿਆਲਾ
ਸਾਲ: 1987
ਛਪਾਈ: second